نئی دہلی( آن لائن )بھا رتی وزیر خا رجہ سشما سوراج نے پا کستا ن کے ساتھ مذاکرا تی عمل کو خا رج از امکان قرار دیت ہو ئے کہا ہے کہ جب تک اسلا م آ با د تشدد پسندانہ کا روائیا ں بند اور ممبئی حملو ں کے ملز ما ن کو ا نصا ف کے کٹہر ے میں نہیں لا تا اسوقت تک با ت چیت نا ممکن ہے .
 
ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پا کستا ن کو دہشت گردی اور تشدد کو دور رکھنے کے لیے ہم آہنگی کی فضا پیدا کر نا ہو گی .
 
بھا رتی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کے حوالے سے نہ تو دہلی کی پالیسی میں اچانک کوئی تبدیلی کی جارہی ہے اور نہ ہی اسلام آباد کے ساتھ مستقبل قریب میں رابطے کا ارادہ ہے کہ دہشت گردی اور تشدد کو دور رکھنے کے لیے ہم آہنگی کی فضا پیدا کی جانی چاہیے۔
 
انہو ں نے کہا کہ پاکستان تین شرائط پر عمل کرکے صورتحال میں بہتر تبدیلی پیدا کرسکتا ہے۔ ”سب سے پہلے تو ہم ہر ایک مسئلے کو پْرامن مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے تیار ہیں، دوسرے یہ مذاکرات دونوں ملکوں یعنی ہمارے اور پاکستان کے درمیان ہوں گے۔ نہ تو کوئی تیسرا ملک ثالثی کرے گا نہ کوئی تیسرا فریق ہوگا۔ تیسرے یہ کہ دہشت گردی اور تشدد کو دور رکھنے کے لیے ہم آہنگی کی فضا پیدا کی جانی چاہیے۔“
 
ہندوستانی وزیرخارجہ نے کہا کہ یہ فیصلہ ہم آج نہیں کررہے ہیں، ہم نے پاکستان کو متعدد مرتبہ بتایا ہے کہ مذاکرات ان تین اصولوں کی بنیاد پر ہی منعقد ہوسکتے ہیں۔
 
“انہوں نے یاد دلایا کہ ان تینوں اصولوں پر دونوں ملکوں نے شملہ اور لاہور اعلامیوں میں اتفاق کیا تھا۔
 
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا مستقبل قریب میں پاکستان اور ہندوستان کے درمیان کسی قسم کی ملاقاتوں کا امکان موجود ہے , ان کا کہنا تھا کہ کہ کوئی مذاکرات طے نہیں کیے گئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ”اب اگر (ممبئی دہشت گرد حملے کا ملزم ذکی الرحمان) لکھوی باہر ہے اور اس کو رہا کردیا ہے، اور اگر پاکستان یہ سوچتا ہے کہ یہ ہم آہنگی کی فضا ہے، تو کیا ہندوستان اس کو قبول کرلے گا؟“
 
ششما سوراج نے کہا ”ہماری پالیسی میں اچانک کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔ جب نواز شریف نریندرا مودی کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے لیے یہاں آئے تھے تو ہم نے تین اصولوں پر مذاکرات کا فیصلہ کیا تھا۔ تب سے اب تک ہم ان تین اصولوں کی پیروی کررہے ہیں۔
 
بھارتی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پڑوسی ملک کی جانب سے بدستور جارحانہ موقف برقرار ہے جبکہ انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کی خلاف ورزیاں معمول بن چکی ہیں .
 
انہون کا مزید کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر پر کسی قسم کی ثالثی قبول نہیں ۔ پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر بار بار اٹھانے کی کوشش کی اور وزیر اعظم نواز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں گزشتہ سال ستمبر میں یہ مسئلہ اٹھایا اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کو بھی اس معاملے میں مداخلت کے لئے مکتوب روانہ کئے ۔
 
بھارتی وزیر خارجہ سے جب پاک بھارت کرکٹ واپسی کے حوالے سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں ہوا ۔ انہوں نے چین کے ساتھ بھی تنازعات پر بات کی اور کہا کہ کوشش کریں گے کہ تمام باہمی مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں .