وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ امریکہ سے جنگ نہیں امن میں اتحادی ہیں ۔ ہم مستحکم اور پر امن افغانستان چاہتے ہیں پاکستان میں فوجی مداخلتوں کی تاریخ تلخ ہے ۔ دنیا کو بتانا ہو گا۔ یہاں جمہوریت مضبوط ہے 4سال پرفارم کیا فصل پک کر تیار ہو گئی اب اسے کاٹنا ہمارا حق ہے۔

نجی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں خواجہ آصف نے کہا کہ امریکہ میں ان کی 2اہم ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ سیکرٹری ریکس ٹیلرسن اور مک ماسٹر سے اہم امور پر بات چیت ہوئی ۔ ٹیلرسن نے پاکستان میں جمہوریت کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں کئی چیلنجز اور مشکلات کا سامنا ہے۔ ان چیلنجز اور مشکلات سے نمٹنے کے لئے ہمیں یک جہتی کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔

ہمیں دنیا کو بتانا ہو گا کہ یہاں جمہوریت مضبوط ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپر پاور کے عہدیداران بعض اوقات ہم سے دھمکی آمیز لہجے م یں بات کرتے ہیں۔ میری ٹیلرسن سے طویل ملاقات تھی۔ نک ماسٹر کے ساتھ 25 منٹ ملاقات ہوئی دونوں ملاقاتیں پہلے سے طے تھیں۔ میں نے اپنا نقطہ نظر کھل کر بیان کر دیا تھا۔ مجھے کوئی حسرت نہیں رہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں فوجی مداخلتوں کی تاریخ تلخ ہے۔ ہم نے پاکستان کو ٹوٹتے ہوئے دیکھا ہے۔ ایوب خان اور ضیاء الحق کی آمریت بھی دیکھی ہے۔ اب پاکستان میں معاشی ترقی ہو رہی ہے جمہوریت مضبوط ہو گی تو پاکستان بھی مضبوط ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ ہم امریکہ کے ساتھ جنگ نہیں امن میں اتحادی ہیں ۔ ہمارے ایران، چین اور ترکی سے دوستانہ تعلقات ہیں۔ ہم مستحکم اور پر امن افغانستان چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان اتفاق رائے سے بنایا گیا تھا اور یہ اسی لئے بنایا گیا تھا کہ ہم اپنے گھر کو ٹھیک کریں ۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم اپنی غلطیوں کا اعتراف نہیں کریں گے تو ان غلطیوں کا تدارک بھی نہیں ہو گا۔ ہمیں اپنی غلطیوں سے سیکھ کر آگے بڑھنا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے 4سال پرفارم کیا ہے۔ اب فصل پک کرتیار ہو گئی ہم نے ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ کیا لوڈشیڈنگ ختم ہو چکی ہے ہم نے ترقی کا سفر طے کیا ہے اب فصل کاٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہمارا حق ہے کہ ہم اس فصل کو کاٹیں ۔ ہم اپنی کارکردگی سے عوام کے پاس جائیں گے اور امید ہے کہ 2018ء میں بھی سرخرو ہوں گے ۔

انہوں نے کہا کہ امریکی نائب معاون وزیر خارجہ ایلکس ویلز جمعرات کوپاکستان کے دورے پر ائیں گی میں بھی جلد افغانستان کا دورہ کروں گا۔ بھارت کے دورے کے لئے ابھی حالات سازگار نہیں ہیں۔ کشمیر میں اور لائن آف کنٹرول پر لوگوں کو شہید کیا جا رہا ہے