موروثی امراض کے شکار، تین افراد ’کرسپر‘ تکنیک سے شفایاب

128

واشنگٹن: 

گزشتہ چند برس سے مشہور ہونے والی ایک نئی جین ایڈیٹنگ ٹیکنالوجی ’کرسپر‘ کی بدولت تین ایسے مریضوں کا علاج کیا گیا ہے جو جینیاتی یا موروثی بیماریوں میں مبتلا تھے۔

ان میں سے دو مریض بی ٹا تھیلے سیمیا کے شکار تھے اور ایک سِکل سیل انیمیا میں مبتلا تھا۔ اب ان مریضوں کو باربار خون کے عطئے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ ماہرین نے بہت احتیاط کے ساتھ ان مریضوں کے گودے میں موجود اسٹیم سیل (خلیاتِ ساق) کو کرسپر عمل کے ذریعے تبدیل کیا گیا ہے۔

کرسپر درحقیقت ’کلسٹرڈ ریگولرلی انٹراسپیسڈ شارٹ پیلنڈرومِک رپیٹس‘ کا مخفف ہے جسے مختصراً کرسپر کہا جاتا ہے۔ اس علاج کی تفصیلات یورپی ہیماٹولوجی ایسوسی ایشن کے آن لائن اجلاس میں پیش کی گئی ہیں۔ ناش ویلی، ٹینیسی مٰں واقع سارہ کینن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی سائنسداں ہیڈر فرنگول نے اجلاس میں بتایا کہ ابتدائی نتائج سے ظاہر ہوا ہے کہ ہم نے بی ٹا تھیلیسمیا اور سِکل سیل کا عملی علاج دریافت کرلیا ہے۔ اس کیفیت میں جینیاتی تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں جو ہیموگلوبن پر اثرانداز ہوتی ہیں اوراگرمرض شدید ہوتو پھر انتقالِ خون کی ضرورت پیش آتی ہے۔

تاہم بعض مریضوں میں اس کی کوئی ظاہری علامات سامنے نہیں آتیں اور وہ بلوغت تک ناقص ہیموگلوبن خلیات بناتے رہتے ہیں جسے فیٹل ہیموگلوبن کہا جاتا ہے۔ کرسپر کے ذریعے تین مریضوں کی ہڈیوں کے گودے میں اس جین کو سلادیا گیا ہے جو فیٹل ہیموگلوبِن کی وجہ بنتا ہے۔

اس کے بعد بچے کچھے بیمار خلیات کو کیموتھراپی کے ذریعے ختم کردیا گیا اور انہیں تبدیل شدہ خلیات سے بدل دیا گیا۔ اب ہڈیوں میں جو نئے خلیات بنے وہ بالکل صحتمند اور تندرست تھے۔ اب تھیلیسیمیا کے مریضوں کا علاج کئے ہوئے 15 ماہ اور  اور سکل سیل کے مریض کو شفایاب ہوئے نوماہ ہوچکے ہیں۔

تاہم تینوں مریضوں نے کیموتھراپی کے منفی اثرات کی شکایت ضرور کی ہے اور ان مریضوں کی نگرانی کی جاتی رہے گی تاکہ ان پر ہونے والے منفی اثرات کا جائزہ لیا جاتا رہے۔ لیکن سائنسدانوں کے نزدیک اس سے بھی اہم کرسپر تھراپی کی دیرپا افادیت کا جائزہ لینا ہے۔