پی ٹی آئی کے مستعفی اراکین اسمبلی استعفوں کی تصدیقی عمل کیلئے اسپیکر چیمبر پہنچ گئے

اسپیکرکی عدم موجودگی کے باعث ملاقات نہ ہو سکی، سپیکر کا رویہ انتہائی قابل مذمت ہے ،اسد قیصر

17

اسلام آباد :پاکستان تحریک انصاف کے ممبران قومی اسمبلی اسپیکر چیمبر پہنچ گئے تاہم اسپیکر قومی اسمبلی کی عدم موجودگی کے باعث پی ٹی آئی وفد کی اسپیکر سے ملاقات نہ ہو سکی۔تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے ممبران قومی اسمبلی جمعہ کو اسپیکر چیمبر پہنچ گئے لیکن اسپیکر اپنے چیمبر میں موجود نہیں تھے اور اراکین کو اسپیکر سے ملاقات کےئے بغیر ہی واپس لوٹنا پڑا۔

اسپیکر چیمبر سے واپسی پر میڈیا سے گفتتگو کرتے ہوئے سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے کہا کہ سپیکر کا رویہ انتہائی قابل مذمت ہے اسپیکر نے خود کہا تھا کہ آپ اسمبلی آئیں،انہوں نے کہا تھا ایک ایک کرکے آئیں پھر استعفی منظور ہوں گے،پھر کیسے 35 مذید استعفے منظور کئے؟

ہم یہاں سارے ایم این اے یہاں استعفی دینے آئے ہیں ،ہم چاہتے ہیں ہمارے 125 استعفی منطور کر یں ہم نگران حکومت کو نہیں مانیں گے۔ فواد چوہدری نے کہاکہ ہم بے بس پارلیمنٹ کے سامنے کھڑے ہیں اسپکیر سے پوچھتا ہوں وہ کہاًں ہیں ہمارے 18 ایم این ایز جو آپ سے رابطے میں تھے؟ اسپیکر کی کوئی حیثیت نہیں ،پاکستان ڈیفالٹ کی طرف جارہا ہے پاکستان اس وقت 64 فیصد غیر نمائندہ ہے۔ اسد عمر نے کہا کہ پاکستان کو اس گہری کھائی سے نکالنے کے لیے واحد حل الیکشن ہے ،ہم یہاں استعفے دینے آئے اور اسپیکر سمیت سارا عملہ غائب ہے جنرل الیکشن مزید ملتوی ہونا کسی بھی صورت اس ملک کے حق میں نہیں ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سپیکر نے کہا کہ جب تک تسلی نہیں کرتا استعفے منظور نہیں کرسکتا انہوں نے اپنی آئینی ذمہ داری سے فرار اختیار کیا ہماری پارلیمانی پارٹی اجلاس ہوا اور انہوں نے راتوں رات میٹنگ کی ہمارا اجلاس جاری تھا کہ 35 مزید استعفے منظور کیے جو ممبر باقی تھے ہم ان کو لے آئے کہ ان کے استعفے بھی منظور کریں جو وہ کہتے تھے اور جو کررہے ہیں اس میں تضاد ہے ۔