پاکستان کا آئی ایم ایف سے پروگرام بحال کرنے پر اصرار ، گیس مہنگی، ٹیکس وصولیوں کا ہدف مکمل اور پیٹرول لیوی بھی بڑھا نے کی یقین دہانی

26

 پاکستان نے عالمی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف) سے پروگرام بحال کرنے پر اصرار کرتے ہوئے یقین دہانی کر ائی ہے کہ ملک میں جلد ہی گیس مہنگی کردیں گے جبکہ مقررہ ٹیکس وصولیوں کا ہدف مکمل اور پیٹرول لیوی بھی بڑھا ئی جائے گئی ۔

ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ورچوئل مذاکرات ہوئے ہیں جس میں پاکستان کی طرف سے سیکرٹری خزانہ حامد یعقوب شیخ کی سربراہی میں وفد نے مذاکرات کیے، آئی ایم ایف کی طرف سے مشن چیف ناتھن پورٹر مذاکرات میں شریک ہوئے۔ ذرائع کے مطابق پاکستانی وفد نے معاشی صورت حال کے بارے میں بریفنگ دی، پاکستان نے رواں سال کے لیے مقررہ کردہ ٹیکس وصولیوں کا ہدف مکمل کرنیکی یقین دہانی کرائی اور آئی ایم ایف کو سیلاب سے متعلقہ منصوبوں پر اٹھنے والے اخراجات سے آگاہ کیا۔

ذرائع کے مطابق پاکستانی وفد نے گیس کی قیمتوں میں جلد اضافے کے فیصلے سے بھی آگاہ کیا، وفد نے بتایا کہ گیس کی قیمتوں میں اضافہ یکم جولائی 2022 سے ہوگا، گیس کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری جلد ہی کابینہ دیگی، گیس کے شعبے کا گردشی قرض بھی ختم کیا جارہا ہے، پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی بھی مرحلہ وار بڑھائی جا رہی ہے۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا کہ پاکستان روپے کی قدر میں کمی کو مصنوعی طریقے سے نہ روکے، بجلی پر سبسڈی بھی ختم کی جائے، ٹیکس کا جی ڈی پی تناسب بڑھانے کے لیے اقدامات کیے جائیں، مختلف شعبوں کو دیے گئے استثنیٰ بھی ختم کیے جائیں۔

ذرائع کا کہنا ہیکہ پاکستان نے آئی ایم ایف سے پروگرام بحال کرنے پر اصرارکیا ہے۔ دوسری جانب میڈیارپورٹس کے مطابق وفاقی حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا پروگرام ٹریک پر لانے کیلئے معاہدے میں طے شدہ شرائط پوری کرنے پر کام کا آغاز کردیا۔توقع ہے کہ آئی ایم ایف جائزہ مشن کی آمد سے قبل زیادہ تر شرائط پوری کردی جائیں گے، جس کے بعد منی بجٹ کا مسودہ حتمی مراحل میں داخل ہوگیا ہے جس کے تحت متعدد لگژری اشیاء پر اضافی ڈیوٹی عائد کی جارہی ہے اور 70 ارب روپے کے لگ بھگ اشیاء پر دی جانے والی ٹیکس کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز ہے۔اس کے علاوہ نان فائلرز کی بینکنگ ٹرانزیکشن پر ود ہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے کی تجویز پر غور کیا جارہا ہے۔

اس بارے ذرائع کا کہنا ہے کہ ریونیو اقدامات سے متعلق تجاویز وزارت خزانہ کے ساتھ شیئر کی گئی ہیں اور اسی تناظر میں آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے کے لئے وزارت خزانہ میں ٹیکس تجاویز پر کام جاری ہی۔جس کے تحت یومیہ 50 ہزار روپے سے زیادہ کی بینک ٹرانزیکشن پر ود ہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے کی تجویز زیر غور ہے تاہم ایکٹیو ٹیکس پیئرز لسٹ میں شامل افراد پر مجوزہ ٹیکس لاگو نہیں ہوگا۔ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ نان فائلرز پر ود ہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے سے 45 سے 50 ارب روپے آمدن کا تخمینہ لگایا گیا ہے