وکلاء کمیونٹی نے بیرسٹر فہد ملک کیس میں ان کی والدہ کی جانب سے کیس کی سماعت کرنے والے انتہائی قابل احترام جج ظفراقبال پر عائد سنگین الزامات کی مذمت

199

اسلام آباد (ان لائن) وکلاء کمیونٹی نے بیرسٹر فہد ملک کیس میں ان کی والدہ کی جانب سے کیس کی سماعت کرنے والے انتہائی قابل احترام جج ظفراقبال پر عائد سنگین الزامات کی مذمت اور گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ عدالت میں زیر سماعت کیس پر میڈیا میں بات کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے جبکہ ملک سہراب فیملی کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ خاتون پیسوں کے لین دین کے لیے راجہ ارشد کو بدنام کررہی ہے ۔نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اسلام آباد میں شراب فروشی میں ملوث ملک سہراب فیملی کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ اس فیملی کے مردو خواتین پر اب بھی کئی تھانوں میں شراب فروشی کے مقدمات ہیں اور ان کی خواتین بھی اس دھندے میں ملوث ہیں فہد ملک کا کیس عدالت میں زیر سماعت ہے مگر معزز جج ظفر اقبال کو دباؤ میں لانے اور اپنی مرضی کا فیصلہ حاصل کرنے کی غرض سے یہ خاتون ان کی شہرت کو داغدار کررہی ہے اس سے پہلے اسی خاتون نے جج کوثر زیدی پر بھی سنگین الزامات لگائے تھے اور اب جج ظفر اقبال پر کرپشن کے بے بنیاد اور بے ہودہ الزامات لگائے جارہے ہیں یہ کیس چھ سال سے عدالت میں زیر سماعت ہے اور اصل میں فہد ملک کی والدہ خود نہیں چاہتی کہ اس کیس کا جلد فیصلہ ہو کیونکہ اس نے جائیداد کےلیے اپنے دونوں بیٹوں پر کیس کیے ہوئے ہیں اور راجہ ارشد مکمل طور پر بے گناہ تھا ملک سہراب فیملی کے قریبی ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا کہ فہد ملک کو قتل کرنے میں بھی راجہ ارشد ملوث نہیں تھا بلکہ یہ قتل کھوکھروں کے لوگوں سے کروایا گیا اور بعد میں راجہ ارشد کو قاتل بنا دیا گیاذرائع نے بتایا کہ الزام لگانے والی خاتون خود مبینہ طور پر شراب فروشی میں ملوث ہیں اور اب راجہ ارشد سے بھی پیسے بٹورنے کےلیے انھیں بدنام کررہی ہے جبکہ اس خاتون کا اپنا کردار بھی مشکوک ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ وکلا کمیونٹی نے اس خاتون کے جج پر الزامات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور اس بارے اسلام آباد ہائی کورٹ بار اور ڈسٹرکٹ بار کونسل بھی شدید تحفظات رکھتی ہے اور انہوں نے اعلی عدلیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان الزامات کا نوٹس لے اوراس خاتوں کے خلاف کاروائی کی جائے جو معزز جج کی قابلیت اور شہرت کو داغدار کررہی ہیں